اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور بوسنیا و ہرزیگوینا کے سربراہان مملکت نے اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور نجی شعبوں میں مشترکہ تعاون بڑهانے پر زور دیا.
ایران اور بوسنیا کے صدور کی ملاقات/باہمی اقتصادی تعاون بڑهانے پر اتفاق
ایرانی صدر 'حسن روحانی' اور تہران کے دورے پر آئے ہوئے ان کے بوسنیائی ہم منصب 'باقر عزت بیگوویچ' نے آج خصوصی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی.
اس موقع پر صدر روحانی نے کہا کہ اسلام امن اور بہائی چارے کا دین ہے اور تمام اقوام عالم کو اجتماعی پُرامن بقا کی دعوت دیتا ہے.
انہوں نے مزید بتایا کہ اعتدال پر مبنی اسلام کے فروغ سے یورپی مسلمانوں بالخصوص بوسنیائی مسلم معاشرے کے لئے ایک اہم ثقافتی بنیاد بن سکتا ہے.
انہوں نے کہا کہ عالمی پابندیوں کی وجہ ایران اور بوسنیا کے تعلقات کو کوئی خاص فروغ نہیں ملا مگر اب جوہری معاہدے کے نفاذ اور عالمی پابندیوں کے خاتمے سے مشترکہ اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے سازگار ماحول فراہم ہوا ہے.
حسن روحانی نے کہا کہ انہوں نے اپنے بوسنیائی ہم منصب کے ساته دوطرفہ اقتصادی، تجارتی، سائنسی، ثقافتی اور نجی شعبوں کے درمیان باہمی تعلقات کی توسیع کے لئے تعمیری مذاکرات کئے.
انہوں نے کہا کہ ایران اور بوسنیا مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس دسمبر کو سرائیوو میں منعقد ہوگا جس میں دونوں ممالک کے حکام مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے قیام کے لئے نئی فہرستوں کا تبادلہ کریں گے.
ایرانی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ بوسنیائی صدارتی کونسل کے سربراہ کا دورہ ایران دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا ہے.
بوسنیائی صدر، ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر 'علی لاریجانی' کے ساته بهی ملاقات کریں گے اور مہمان صدر ایران کے تاریخی شہر اصفہان کی سیر کے لئے بهی جائیں گے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲